Tuesday, 13 February 2024
Monday, 12 February 2024
(Message for Adults)👈#سوال اولاد پیدا کرنے کے لئے عضو تناسل کا نارمل سائز کیا ہوتا ہے..؟👈#سوال عضو تناسل کی معمول کی لمبائی کتنی ہوتی ہے..؟👈 #سوال کیا عضو تناسل میں اضافہ کرنے والا کوئی طلاء کریم مالش یا دوا دستیاب ہوتی ہے..؟ معالجین سے پوچھے جانے والے یہ سوالات جن کے جواب بہت اہم ہیں۔👈#جواب ہر انسان کا انفرادی نوعیت سے عضو تناسل کی موٹائی اور لمبائ میں فرق ہوتا ہے عام طور پر عضو تناسل کی لمبائی میں اضافہ اس کے تناو کی وجہ سے ہوتا ہے آرام اور سکون کی حالت میں لمبائی اور موٹائی کے سائز میں فرق آجاتا ہے اسی طرح ٹینشن دماغی تناو یا پھر ٹھنڈی ہوا اور ٹھنڈے پانی کے اثر سے عضو تناسل سکڑ جاتا ہے موروثی یا ذاتی وجوہات کی بناء پر مختلف مردوں میں عضو تناسل کی بناوٹ مختلف ہوتی ہے جو کہ سختی کی حالت میں 4 سے 7 انچ ہو سکتی ہے اولاد پیدا کرنے کے لئے عضو کا سائز 3 انچ کا بھی کافی ہے عورت کی فرج کا سائز 4 سے 7 انچ ہوتا ہے جبکہ پہلے 2 سے 3 انچ حساس ہوتے ہیں ,اولاد پیدا کرنے کے لئے عضو کا سائز 8 انچ ہونا ضروری نہیں ہے بہت سے نوجوان یہ سوچتے ہیں کہ لمبے عضو کو عورت پسند کرتی ہے یا اس سے عورت کو لطف ذیادہ حاصل ہوتا ہے یہ باتیں بالکل غلط ہیں حقیقت یہ ہے کہ عورت کے لطف اندوز ہونے یا لزت حاصل کرنے میں عضو کے سائز کا کوئی کمال نہیں بلکہ عورت درمیانہ اور سخت عضو پسند کرتی ہے اگر آپ اپنی بیوی کو جنسی لذت اور لطف دینا چاہتے ہیں تو اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ ملاپ کس طریقہ سے کرتے ہیں اور عضو میں سختی کتنی ہے ۔۔ اب کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نفس کی موٹائی ذیادہ ہونی چاہئے مگر صرف بچہ پیدا ہونے کے بعد عورت کی جگہ کشادہ ہونے کی وجہ سے موٹائی کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ پھنس کر جانا ہر فریق مخالف کی ڈیمانڈ ہے ۔۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عضو ٹیڑھا نہیں ہونا چاہیے ایک دلچسپ اور مزے کی بات یہ ہے کہ 90 فیصد مردوں کے عضو لیفٹ سائیڈ کی طرف مڑے ہوتے ہیں چاہے انھوں نے مشت ذنی کی ہو یا نہیں اصل میں سب نارمل ہے کیونکہ عضو کسی ہڈی یا سخت چیز کا نہیں بنتا اگر عضو کی رگیں ابھری ہوئی ہوں تو عضو میں خون بھرے گا اور تناو ذیادہ ہوگا یہی حقیقی لذت ہے اکثر ہارمونز کی کمی یا خرابی کی وجہ سے عضو تناسل کی موٹائی یا لمبائی میں فرق آتا ہے اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے ساتھ یہ مسئلہ ہے تو پریشان مت ہوں عضو کا چھوٹا یا پتلا ہونا قابل علاج ہے مگر یاد رہے کہ بازاری طلاء جات اور کریمیں آپ کے مسئلہ کو مذید بگاڑ سکتی ہیں , جس طرح ہر انسان کے عضو تناسل کی بناوٹ مختلف ہوتی ہے ,,لہذا مکمل علامات اور مرض کی وجوہات کی آگاہی کے بعد ہی کامیاب علاج ممکن ہے۔(Copied)@followers @highlight
Sunday, 11 February 2024
گردے کی پتھری کی وجوہات اور علاج؟۔ Kidney stones گردوں کی پتھری ایک نہایت تکلیف دہ بیماری ہے، پاکستان میں تقریباً %15 آبادی اس کا شکار ہوتی ہے،ہر سال، آدھے ملین سے زائد افراد گردے کی پتھری کے مسائل کے لیے ایمرجینسی روم میں جاتے ہیں۔پتھری؛ گردوں سمیت پیشاب کی نالی اور مثانے میں ہو سکتی ہے۔باقی بچوں میں گردوں کی پتھری بڑوں کی نسبت کم ہوتی ہے۔لیکن دمہ والے بچوں میں کچھ زیادہ امکان ہو سکتے ہیں۔ گردے کی پتھری کیا ہے؟عام طور پر، آپ کے گردے پیشاب بنانے کے لیے آپ کے خون سے فضلہ نکالتے ہیں۔جب آپ کے خون میں بہت زیادہ فضلہ ہوتا ہے اور آپ کا جسم کافی پیشاب نہیں بنا رہا ہوتا ہے، تو آپ کے گردوں میں کرسٹل بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ کرسٹل دوسرے فضلہ اور کیمیکلز کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں تاکہ ایک ٹھوس چیز (گردے کی پتھری) بن جائے جو اس وقت تک بڑی ہوتی جائے گی جب تک کہ یہ آپ کے پیشاب میں آپ کے جسم سے باہر نہ نکل جائے۔باقی گردے کی پتھری ریت کے ایک دانے کی جتنی چھوٹی یا گولف کی گیند کی جتنی بڑی ہوسکتی ہے۔گردے کی پتھری کی علامات عموماً گردے کی چھوٹی پتھری درد یا دیگر علامات کا سبب نہیں بن سکتی۔ یہ “خاموش پتھر” جسم سے پیشاب کے ذریعے نکل جاتی ہیں۔لیکن، جب یہ حرکت کرنا شروع کر دیتی ہے یا بہت بڑی ہو جاتی ہے، تو پھر مریض کو علامات ہو سکتی ہیں جیساکہ 1:درد کے ساتھ متلی یا الٹی ہونا2:کمر کے ایک یا دونوں اطراف میں شدید درد کا ہونا اور درد کمر سے پیٹ کی طرف جا تا ہے۔ 3:پتھری کا درد لہروں کی شکل میں آۓ گا اور شدت اختیار کر دیگا۔4:بخار یا سردی کا لگنا 5:پیشاب میں خون اور بد بو یا ابر آلود کا نظر آنا اور پیشاب کرتے وقت درد محسوس کرنا6:زیادہ کثرت سے پیشاب کرنے کی ضرورت محسوس کرنا۔گردے کی پتھری کی وجوہات / رسک فیکٹریوں تو گردوں کی پتھری 5 قسم کی ہو سکتی ہے، جس میں سب سے زیادہ کیلشیم آکسیلیٹ (%75) اور یورک ایسڈ (%10) کی پتھری ہوتی ہیں، ہر قسم کی پتھری کی الگ وجوہات یا بیماری ہو سکتی ہیں،1. کم پانی پینے کی عادت کا ہونا (Dehydration)2. موروثی طور پر پتھری کا ہونا3 بار بار پیشاب کی نالی میں انفیکشن ہونا4:پیشاب کی نالی میں رکاوٹ کا آنا5. وٹامن سی یا کلیشیم والی دواؤں کا بے حد استعمال کرنا6:لمبے عرصے تک شوگر کا مریض رہنا7:ہائپر پائرا تھارائیڈ زم کی بیماری کا ہونا8:ایسی غذا کا زیادہ استعمال کرنا جس میں پتھری بنانے والے مادے شامل ہوں (مثال کے طور پر، فاسفیٹ، گوشت، مچھلی، پھلیاں اور دیگر پروٹین سے بھرپور غذاؤں میں ہوتا ہے) اور سوڈیم (کھانے میں نمک زیادہ) شکر (فرکٹوز اور سوکروز کا زیادہ ہونا)9:اور دیگر وجوہات میں جیسے ہائی بلڈ پریشر،موٹاپا،آسٹیوپوروسس،گاؤٹ اور سسٹک فائبروسس،گردے کے سسٹ، آنتوں کی سوزش کی بیماری اور دائمی اسہال وغیرہ شامل ہو سکتی ہے۔گردوں کی پتھری کی تشخیص و علاجتشخیص اور علاج کےلئے ڈاکٹر سے رجوع کریں ،گردے کی پتھری کا علاج اس بات پر منحصر ہے کہ پتھری کا سائز کیا ہے، یہ کس چیز سے بنی ہے، اس سے درد ہو رہا ہے یا یہ پیشاب کی نالی کو روک رہا ہے یا نہیں ، عموماً الٹراساؤنڈ سے گردے کی پتھری کی تشخیص کی جاتی ہے، لیکن CT scan سب سے اچھا ٹیسٹ مانا جاتا ہے۔باقی پتھری کا علاج پتھری کے سائز اور مریض کی حالت پہ ڈیپنڈ کرتا ہے، 10mm سے چھوٹی پتھری کو میڈیسن کے زریعے اور وافر مقدار میں پانی پینے سے پیشاب کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے، جتنا چھوٹی پتھری ہو گی ،اتنا پتھری نکلنے کے چانسز زیادہ ہوں گئے،جیسے 5mm سے چھوٹی پتھری کے تقریباً 70 پرسنٹ چانسز ہوتے ہیں ، پیشاپ کے زریعے نکلنے کے،اور 10mm سے زیادہ پتھری کے صرف 20 پرسنٹ چانسز ہوتے ہیں، جس مریض کی پتھری میڈیسن سے نہ نکل سکے تو پھر اس کے لیے شاک ویو لیتھوٹریپسی اور دیگر سرجری کی جاسکتی ہیں۔ لیکن شاک ویو اور دیگر سرجری کا حتمی فیصلہ صرف یورولوجسٹ ڈاکٹر ہی کرے گا، لہذا ٹوٹکوں وغیرہ سے پرہیز کریں،ورانہ گردوں کی پتھری سے گردے ناکارہ بھی ہو سکتے ہیں،(باقی گردوں کی پتھری سے بچاؤ/ ہرپیز کے لیے ایک اور الگ پوسٹ یعنی دوسری قسط میں ذکر کروں گا) Regards Dr Akhtar Malik@followers
Saturday, 10 February 2024
#نوجوانوں_کو_صحت_کے_ہوالے_سے_ضروری_ہدایات1۔👈جنسی اعضا کو صحت مند اور تندرست رکھنے کے لیے عام جسم کی صفائی اور پاکیزگی کے ساتھ ساتھ ان کی صفائی اور پاکیزگی بھی ضروری ہے ۔2۔👈 پیشاب کی خواہش ہونے پر فوراّٙ کر دینا چاہیے پیشاب کو روکنے سے احتلام ہونے لگتا ہے رات کو سوتے وقت ضرور پیشاب کرنا چاہیے ۔قبض نہ ہونی چاہیے ۔موئے زیر ناف کی صفائی بھی ہر ہفتے کرنی چاہیے ۔3۔👈عورتوں سے بات چیت کرنے سے سخت پرہیز ضروری نہیں ہے مگر یہ ضروری ہے کہ لڑکیوں کے ساتھ جسمانی اختلاط سے دور رہیں ۔اس طرح جنسی جذبات جوش میں آ جاتے ہیں اور پھر اس کی تسکین کے لیے غلط راستوں یا گناہگارانہ تعلقات قائم کر کے مصیبت میں پھنسنا پڑتا ہے ۔4۔👈جنسی خواہش جوانی کے زمانہ سے شروع ہوتی ہے اس لئے نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پختگی حاصل ہونے تک اپنی جنسی امنگوں کو قابو میں رکھیں تاکہ آگے چل کر مناسب وقت پر ان سے پورا پورا فائدہ اٹھا سکیں ۔5۔👈انسانی نسل کی بڑھوتری کے لیے شادی مذہبی ،اخلاقی اور قانونی طریقہ ہے لہذا جنسی جذبات کو غلط راستوں پر ڈالنے کے بجائے اسے کنٹرول میں رکھ کر شادی تک محفوظ رکھنا چاہیے ۔6۔👈 یہ ہرگز نہ سوچیں کے جب تک آپ پورے جوان نہ ہوں اور روزگار کا ذریعہ پیدا نہ ہوجائے شادی نہ کی جائے رزق زمہ اللہ پاک نے اٹھا رکھا اور جو اللہ کی بندی آپکے گھر آئے گی وہ اپنے حصے کا لیکر آئے گی ۔7۔👈غیر فطری جنسی تسکین کے طریقوں سے بچنا چاہیے ۔نیز بازاری عورتوں سے بچنا چاہیے ایسی بیشتر عورتیں جنسی امراض مثلا ً آتشک ،سوزاک اور ایڈز وغیرہ میں مبتلا ہوتی ہیں ۔8۔👈 نوجوانوں کو رات جلدی سونا اور صبح جلدی اٹھنا چاہیے ۔یہ بھی جنسی اعضا پر اچھا اثر ڈالتا ہے ۔تنگ پتلون نہ پہننی چاہیے کیونکہ اس سے جلد اور تناسلی اعضا پر دباو پڑتا ہے۔
Friday, 9 February 2024
28 رجب المرجبروانگی قافلہ مولا حسین علیہ السلاماماںؑ کی قبر پر کبھی قبر رسولؐ پربے چین ساری رات گزاری حسینؑ نے😭چل پڑا آلِ نبیؐ کا سفینہ خدا خیر کرےہو گیا ویران مدینہ خدا خیر کرےنانےؐ کے دین کی خاطر قربان ہونے کیلئےبہنوں کو لے کر چلا ہے زہرا (؏) کا لالخطرے کی زد میں آگیا قرآن کا وجودشبیرؑ گھر سے آیتیں لے کر نکل پڑے*ناناؐ ہو مبارک تجھے اپنا یہ مدینہ**کربل کے مسافر کا چلا آج سفینہ* *اک رات کا مہمان ہے تیرے دل کا نگینہ* *اصغرؑ اکبرؑ عباسؑ میرے ساتھ ہے معصوم سکینہؑ**ناناؐ یہ رسالت کا اجر خوب ملا ہے**زینبؑ کو لے کر وطن سے شبیرؑ چلا ہے*دل میں حُسینؑ پڑھ رہے تھے انا للہِجس دم کِیا سوار بہن کو عباسؑ نےمرجاؤں گی اکبرؑ کی جدائی کے سبب میںدارین کے والی میری تقدیر بدل دےبابا نہیں لے جاتےمیں دادی کی شبیہ ہوںحسنین ؑ کے نانا ؐ میری تصویر بدل دےھائے_ملکہ_ہجر_و_فراق 😭💔شبیہہ_سيده_ع ھائے_مدینہ 😭💔 روانگی_سفر_کربلا 😭💔مولا حسینؑ کی روانگی کے وقت جگر کے ٹکڑے کر دینے والا منظر جب دامن سے لپٹی صغرا ؑ جیسی بہن کو اکبرؑ جیسے بھائی نے جُدا کیا۔خدایا سب مومنین و مومنات کے رزق ، جان اور مال میں برکت عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین🤲 🌺🎊یا علی علیہ اسلام 🎊🌺زہرا ؑ جائیاں دا آسرا غازیؑ.......ہائے ہائے زینبؑ ہائے ہائے شامخدایا شہزادہ علی اصغر علیہ السلام کے صدقے تمام بے اولاد مومنین و مومنات کو اولاد نرینہ عطا فرما۔ آمین 🤲سلام یا حسین علیہ السلام💖قرآن کریم ❤️یا اللّٰہ پاک ہم سب کو قرآن پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین یارب العالمین🤲حب علیؑ رحمت اللہ بغض علیؑ لعنت اللہخدایا ہم سب کو مُحَمَّدٍؐ وَآلِ مُحَمَّدٍؑ کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔آمین یا رب العالمین بحق معصومین علیہم السلام🤲اللّٰهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ أَلحُسَیْنؑ وَ اُولاَدُ الَحُسِینؑ وَ اَصحَابُ الحُسینؑتم اللہ پاک کے آگے جھکو اور اللہ پاک تم کو کسی کے آگے جھکنے نہیں دے گا۔ ان شاءاللہ 🎊❤️🌹قربان خود کو کر کے مصلہ بچا لیاسر دے دیا حسین ؑ نے سجدہ بچا لیامُحَمَّدٍؐ وَآلِ مُحَمَّدٍؑ کے دشمنوں پہ لعنت۔۔۔۔۔۔بیشمار **اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ وَالْعَنْ أَعْدَائَهُمْ اَجْمَعِيْن**ابدو اللہ یا زہراؑ ماننسی حسیناہؑ 🙏خدا کی قسم یا زہراؑ ہم حسینؑ کو نہیں بھولے گئے(ان شاءاللہ)حسین؏ والوں کی نماز قضا نہ ہو۔📿🕋تم اللہ پاک کے آگے جھکو اور اللہ پاک تم کو کسی کے آگے جھکنے نہیں دے گا۔ ان شاءاللہ 🎊❤️🌹#Respect #Prophet_Muhammad_PBUH بر دشمن علی مرتضیٰؑ لعنت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیشمار 🖐️بر دشمن الزہرا ؑ لعنت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیشمار 🖐️ ایک روز آئے گا میرا حسین ؏ مجھے کربلا بلائے گا۔🌺(ان شاءاللہ)محمدﷺ ہمارے بڑی شان والے۔۔۔۔🌺محمدؐ وآلِ محمدؑ کے دشمنوں پہ لعنت۔۔۔۔۔بیشمارجس کی خاطر یہ کائنات بنی وہ ناناﷺ میرے حسینؑ کا ہےہائے ہائے مظلوم حسین علیہ السلام😭#ہم_تو_زندہ_ہیں_ماتمِ_شبیرؑ_کیلئے#لبیک_یا_حسین ؏ #Salam_Ya_Hussain ؏غِم حسینؑ میں جو بھی آنسو بہاتا ہےمقبول ؔ دوجہاں میں وہ خوشیاں پاتا ہےالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی جَعَلَنا مِنَ الْمُتَمَسِّکینَ بِوِلایَۃِ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِین علیؑ ابن ابی طالبَؑ وَالْاََ ئِمَّۃ المعصومین عَلَیْھِمُ اَلسَّلَامُ🌼💐نہ کربلا بھولیں گے نہ غدیر بھولیں گے نہ علیؑ بھولیں گے نہ شبیرؑ بھولیں گے( ان شاءاللہ)جنابِ مُسلم بن عقیلؑ کا تاریخی جملہ!"میرا حسینؑ کے علاوہ کوئی امیر نہیں"!َاَشْھَدُ اَنَّ فَاطِمَة الزہرا ؑصَدِیْقَةُ الْکُبرٰیؑمیں گواہی دیتا ہوں کہ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کائنات کی سچی خاتون ہیں 🌺شیعہ وہ واحد قوم ہے جس کا امامؑ زندہ ہے۔ الحمدللہجس کے دلِ میں محمدؐ وآلِ محمدؑ کی محبت ہو وہ دنیا و آخرت میں سب سے امیر ہے۔محسنؑ اور حسینؑ میں کوئی فرق نہیں مقبول ؔتو پھر یثرب کے شمر پر بھی لعنت کیا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی بھی غم میں نہ کبھی رُوئے عزادارمقبول ؔ غمِ حسینؑ میں فقط رُوئے عزادار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غازیؑ کو اگر مل جاتی اجازت مقبول ؔ خون کا سیلاب ہوتا نہر فرات میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پنچے پہ مشک یُوں لٹکی ہوئی ہے جیسےعباسؑ کی بانہوں سے لپٹی ہے سکینہؑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کربل میں شہید ہوگئے پر ناناؐ کا اسلام ہے باقیحسینیتؑ ہے زندہ اور یزیدیت پہ لعنت ہے باقیجب تک ہے دنیاقائم رہے گئی حسینیتؑ! مقبول ؔ زہراؑ کے لال کی ابھی عمر دراز ہے باقی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نام علیؑ لے کر جب پیتا ہوں پانی مقبول ؔتاثیر اتنی ہے کہ کوثر کا مزہ آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نام علیؑ سے جو دنیا میں جلتے ہیں مقبول ؔ قیامت میں بھی جلے گئے علیؑ کو دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺 شاعر اہلبیت ؑ 🌺نوکر نعلین شہزادہ علی اکبرؑ #سید_علی_عباس #مقبول ؔ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*اللھم عجل لولیک الفرج**اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍؐ وَ آلِ مُحَمَّدٍؑ وَعجِل فَرجَھُم*اَلسًـــــلآمُ عَلـــــيّكَ يَــــــا ٱبّــــــٱ عبداللہ الحسینؑاَلسًـــــلآمُ عَلـــــيّكَ يَــــــا ٱبّــــــٱ ٱلفُـــــضـــلُ ٱلعــــبّاَس؏ #Nokar_Ghazi_Da #Syed_Ali_Abbas_Bukhari 🌺🍀🌺🍀🌺🍀🌺🍀🌺🍀🌺🍀🌺🍀🌺🍀 #صدقہ_نعلین_پاک #شہزادہ_علی_اکبرؑ #محمد_نویان
Wednesday, 7 February 2024
*رجب کی مخصوص عبادات اور 27 رجب کا روزہ کا حکم اورشب معراج کی تاریخ* سوال رجب المرجب کی 27 اور 28 تاریخ روزے کی حقیقت کیا ہے؟ اور معراج کے بارے میں وضاحت درکار ہے۔ اور رجب کے مہینے میں کچھ خاص تسبیحات جو آپ ﷺ سے ثابت ہوں؟جوابرجب کا مہینہ حرمت والے مہینوں میں سے ہے، ان مہینوں میں عبادت کا ثواب زیادہ ہے، البتہ رجب کے مہینہ میں تخصیص کے ساتھ کسی دن روزہ رکھنا یا کوئی مخصوص قسم کی تسبیحات صحیح احادیث سے ثابت نہیں ہے، لہذا 27 رجب کو تخصیص کے ساتھ روزہ رکھنے اور اس رات شب بیدار رہ کر مخصوص عبادت کرنے (مثلاً: صلاۃ الرغائب یا دیگر مخصوص تسبیحات وغیرہ ) کا التزام درست نہیں ہے، اور اس کی جو فضیلت عوام میں مشہور ہے کہ اس روزہ کا ثواب ہزار روزے کے برابر ہے یہ ثابت نہیں ہے؛ اس لیے اس دن کے روزہ کو زیادہ ثواب کاباعث یا اس دن کے روزہ کے متعلق سنت ہونے کا اعتقاد صحیح نہیں ہے ، علماءِ کرام نے اپنی تصانیف میں اس کی بہت تردید کی ہے،حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے ”تبیین العجب بما ورد في فضل رجب“کے نام سے اس موضوع پر مستقل کتاب لکھی ہے،جس میں انہوں نے رجب سے متعلق پائی جانے والی تمام ضعیف اور موضوع روایات پر محدثانہ کلام کرتے ہوئے سب کو باطل کردیا ہے۔حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ رجب کے مہینے میں ” تبارک“ اور27 رجب کو روزہ رکھنے کے متعلق فرماتے ہیں:”اس امر کا التزام نا درست اور بدعت ہے“۔(فتاویٰ رشید یہ مع تا لیفات رشید یہ،ص: 148)حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”ستائیسویں رجب کے روزے کو جوعوام ہزارہ روزہ کہتے ہیں اور ہزارروزوں کے برابر اس کا ثواب سمجھتے ہیں، اس کی کچھ اصل نہیں ہے‘‘۔(فتاوٰی دار العلوم مد لل و مکمل: 6/491۔ 492)حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”ماہ رجب میں تاریخِ مذکورہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت پر بعض روایات وار دہوئی ہیں، لیکن وہ روایات محدثین کے نزدیک درجہ صحت کو نہیں پہنچیں۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے ”ماثبت بالسنتہ“ میں ذکر کیا ہے۔ بعض بہت ضیعف ہیں اور بعض موضوع (من گھڑت) ہیں“۔(فتاوٰی محمودیہ، 3/281،ادارہ الفاروق کراچی)حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:”27 رجب کے روزہ کا کوئی ثبوت نہیں۔“(سات مسا ئل صفحہ:5)حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:”اس شب کے لیے خصوصی نوافل کا اہتمام کہیں ثابت نہیں ،نہ کبھی حضور صلی الله علیہ وسلم نے کیا ، نہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے، نہ تابعین عظام رحہم اللہ نے کیا۔ علامہ حلبی تلمیذ شیخ ابن ہمام رحمہ اللہ نے غنیتہ المستملی، ص:411 میں، علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ نے الجر الر ائق شرح کنز الد قائق ،ج:2، ص: 56، میں، علا مہ طحطا وی نے مراقی الفلاح ،ص:22 میں، اس رواج پر نکیر فرمائی ہے اور اس کے متعلق جو فضائل نقل کرتے ہیں ان کو ردکیا ہے‘‘۔(فتاویٰ محمودیہ:3/284،ادارہ الفاروق کراچی)لہذا اس مہینے میں تخصیص کے ساتھ کسی عبادت کو ضروری سمجھنا درست نہیں ہے، ہاں تخصیص اور التزام کے بغیر جس قدر ہوسکے اس پورے مہینے میں عبادت کا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے۔2۔ رجب کی ستائیسویں رات کے بارے میں اگرچہ مشہور ہے کہ یہ شبِ معراج ہے، لیکن یقینی طور پر نہیں کہاجاسکتا کہ یہ وہی رات ہے جس میں نبی کریم ﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے، کیوں کہ اس بارے میں روایات مختلف ہیں، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ربیع الاول کے مہینے میں تشریف لے گئے تھے ، بعض روایتوں میں رجب، بعض میں ربیع الثانی، بعض میں رمضان اور بعض میں شوال کا مہینہ بیان کیا گیا ہے، اس لیے پورے یقین کے ساتھ نہیں کہاجاسکتا کہ کون سی رات صحیح معنی میں معراج کی رات تھی، اگر یہ کوئی مخصوص رات ہوتی اور اس کے بارے میں خاص احکام ہوتے تو اس کی تاریخ اور مہینہ محفوظ رکھنے کا اہتمام کیا جاتا، جب کہ شبِ معراج کی تاریخ قطعی طور پرمحفوظ نہیں۔فقط واللہ اعلمفتوی نمبر : 144007200326دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
Monday, 5 February 2024
اردو ميں جسے ہم “بيوی ” بولتے هيں قرآن مجيد ميں اس کے لئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں1- إمراءة 2- زوجة3- صاحبةإمراءة : امراءة سے مراد ايسی بيوی جس سے جسمانی تعلق تو ہو مگر ذہنی تعلق نہ ہوزوجة :ايسی بيوی جس سے ذہنی اور جسمانی دونوں تعلقات ہوں يعنی ذهنی اور جسمانی دونوں طرح ہم آہنگی ہوصاحبة :ايسی بيوی جس سے نه جسمانی تعلق ہو نہ ذہنی تعلق ہواب ذرا قرآن مجيد كی آيات پر غور كيجئے :1- امراءةحضرت نوح اور حضرت لوط عليهما السلام كی بيوياں مسلمان نہیں ہوئی تھيں تو قرآن مجيد ميں ان كو " امراءة نوح " اور " امراءة لوط " كہہ كر پكارا هے،اسی طرح فرعون كی بيوی مسلمان هو گئی تھی تو قرآن نے اسكو بھی" وامراءة فرعون" کہ كر پكارا هے (ملاحظه كريں سورة التحريم كے آخری آيات ميں)یہاں پر جسمانی تعلق تو تھا اس لئے کہ بيوياں تهيں ليكن ذهنی ہم آہنگی نہیں تھی اس لئے کہ مذہب مختلف تھا2- زوجة : جہاں جسمانی اور ذہنی پوری طرح ہم آہنگی ہو وہاں بولا گيا جيسے( ﻭﻗﻠﻨﺎ ﻳﺎ آﺩﻡ ﺍﺳﻜﻦ ﺃﻧﺖ ﻭ ﺯﻭﺟﻚ ﺍﻟﺠﻨﺔ )اور نبی صلی اللّٰہ عليه والہ و سلم كے بارے فرمايا ( يأيها النبي قل لأزواجك .... )شايد اللّٰہ تعالٰی بتانا چاہتا ہے کہ ان نبيوں كا اپنی بيويوں كے ساتھ بہت اچھا تعلق تھاایک عجيب بات هے زكريا علیہ السلام كے بارے کہ جب أولاد نہیں تھی تو بولا ( و امراتي عاقرا .... )اور جب أولاد مل گئی تو بولا ( ووهبنا له يحی و أصلحنا له زوجه .... )اس نكته كو اهل عقل سمجھ سكتے هيں اسی طرح ابولهب كو رسوا كيا يہ بول کر( وامرءته حمالة الحطب )كہ اس کا بيوی كے ساتھ بھی كوئی اچھا تعلق نہیں تھا3- صاحبة : جہاں پر كوئی کسی قسم کا جسمانی يا ذہنی تعلق نہ ہواللّٰہ تعالٰی نے اپنی ذات كو جب بيوی سے پاک کہا تو لفظ "صاحبة" بولا اس لئے كه یہاں كوئی جسمانی يا ذہنی كوئی تعلق نہیں ہے(ﺃﻧﻰ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻭﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻟﻪ ﺻﺎﺣﺒﺔ)اسی طرح ميدان حشر ميں بيوی سے كوئی جسمانی يا ذہنی كسی طرح كا كوئی تعلق نہیں ہو گا تو فرمايا( ﻳﻮﻡ ﻳﻔﺮ ﺍﻟﻤﺮﺀ ﻣﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﻭﺃﻣﻪ وﺃﺑﻴﻪ ﻭﺻﺎﺣﺒﺘﻪ ﻭﺑﻨﻴﻪ ) كيونکہ وہاں صرف اپنی فكر لگی ہو گی اس لئے "صاحبته" بولااردو ميں:امراءتي , زوجتي , صاحبتي سب كا ترجمة " بيوی" ہی كرنا پڑے گاليكن ميرے رب كے كلام پر قربان جائيں جس كے ہر لفظ كے استعمال ميں كوئی نہ كوئی حكمت پنہاں ہے اور رب تعالى نے جب دعا سکھائی تو ان الفاظ ميں فرمايا( رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَأَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاما ) "وأزواجنا" زوجہ سے استعمال فرمايا اس لئے كه آنكھوں کی ٹھنڈک تبھی ہو سکتی ہے جب جسمانی كے ساتھ ذہنی بھی ھم آہنگی ھواللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام مرد و خواتین کو بہترین ہمسفر دے جو دین اور دنیا کہ لیے فائدہ مند ہو ۔۔۔۔۔
Subscribe to:
Posts (Atom)