Monday, 17 March 2025

ہیکنگ کیا ہے اور ہیکنگ کیسے سیکھ سکتے ہیں؟ہیکنگ کا مطلب کسی بھی کمپیوٹر، موبائل، ویب سائٹ، یا نیٹ ورک میں گھس کر اس کے سیکیورٹی سسٹم کو توڑنا یا اس میں کمزوریاں تلاش کرنا ہوتا ہے۔ یہ اچھی (قانونی) اور بری (غیر قانونی) دونوں ہو سکتی ہے۔ہیکنگ کی اقسام1. وائٹ ہیٹ ہیکنگ (اچھی ہیکنگ)✔️ یہ قانونی ہیکنگ ہوتی ہے۔✔️ ماہرین کمپنیوں کی اجازت سے ان کے سسٹمز میں سیکیورٹی خامیاں تلاش کرتے ہیں۔✔️ اس سے کمپنیوں کو اپنے سسٹمز کو محفوظ بنانے میں مدد ملتی ہے۔✔️ اسے "ایتھیکل ہیکنگ" بھی کہا جاتا ہے۔2. بلیک ہیٹ ہیکنگ (بری ہیکنگ)❌ یہ غیر قانونی ہیکنگ ہوتی ہے۔❌ ہیکرز بغیر اجازت کسی کے سسٹم میں گھس کر ڈیٹا چوری کرتے ہیں یا نقصان پہنچاتے ہیں۔❌ اس میں وائرس، مالویئر، اور رینسم ویئر پھیلانا شامل ہے۔❌ یہ جرم ہے اور اس پر سخت قانونی سزا ہو سکتی ہے۔3. گرے ہیٹ ہیکنگ (درمیانی ہیکنگ)⚠️ یہ غیر قانونی اور قانونی ہیکنگ کے بیچ میں آتی ہے۔⚠️ ہیکرز بغیر اجازت کسی کے سسٹم میں داخل ہو کر خامیاں تلاش کرتے ہیں اور بعد میں کمپنی کو بتاتے ہیں۔⚠️ بعض اوقات یہ اچھے مقصد کے لیے ہوتا ہے، لیکن بغیر اجازت ہونے کی وجہ سے غیر قانونی بھی ہو سکتا ہے۔ہیکنگ سیکھنے کے لیے کن چیزوں کی ضرورت ہے؟1. آپریٹنگ سسٹم (Operating System) سمجھنا✔️ ہیکرز زیادہ تر Linux (خاص طور پر Kali Linux اور Parrot OS) استعمال کرتے ہیں۔۔✔️ Windows کے سیکیورٹی سسٹمز کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔2. نیٹ ورکنگ (Networking) کی مہارت✔️ انٹرنیٹ اور نیٹورکس کے اصول سمجھیں جیسے:۔IP ایڈریس کیا ہوتا ہے؟۔DNS کیسے کام کرتا ہے؟۔WiFi اور دیگر نیٹورکس کیسے جُڑے ہوتے ہیں؟۔✔️ Wireshark اور Nmap جیسے ٹولز استعمال کرنا سیکھیں۔3. پروگرامنگ زبانیں (Coding سیکھنا)۔✔️ Python – ہیکنگ کے اسکرپٹس اور آٹومیشن کے لیے۔۔✔️ Bash Scripting – لینکس میں کمانڈز چلانے کے لیے۔۔✔️ JavaScript – ویب ہیکنگ کے لیے۔۔✔️ SQL – ڈیٹا بیس ہیکنگ اور SQL Injection کے لیے۔4. ویب ہیکنگ اور سائبر سیکیورٹی✔️ ویب سائٹس کو کیسے محفوظ بنایا جاتا ہے؟ ۔✔️ Burp Suite اور ZAP Proxyجیسے ٹولز استعمال کریں۔۔✔️ Cross-Site Scripting (XSS) اور SQL Injection جیسے ویب حملے سیکھیں۔5. پاس ورڈ کرکنگ اور پینیٹریشن ٹیسٹنگ۔✔️ John the Ripper اور Hashcat جیسے ٹولز استعمال کریں۔۔✔️ Metasploit Framework کے ذریعے سیکیورٹی خامیاں تلاش کریں۔---ہیکنگ کے مشہور ٹولز (Software اور Tools)نیٹ ورک مانیٹرنگ اور اسکیننگ۔Wireshark – نیٹ ورک کا ڈیٹا دیکھنے کے لیے۔۔Nampa نیٹورک اسکیننگ کے لیے۔پینیٹریشن ٹیسٹنگ (ہیکنگ کے تجربے کے لیے)۔Metasploit – ہیکنگ کے ایکسپلائٹس چلانے کے لیے۔۔Burp Suite – ویب سیکیورٹی چیک کرنے کے لیے۔پاس ورڈ کرکنگ۔John the Ripper – پاس ورڈ توڑنے کے لیے۔۔Hashcat – تیز رفتار پاس ورڈ کرکنگ کے لیے۔ہیکنگ کہاں سے سیکھیں؟۔✔️ TryHackMe – آن لائن پریکٹس کے لیے۔۔✔️ Hack The Box – حقیقی ہیکنگ چیلنجز کے لیے۔۔✔️ Udemy, Coursera, Cybrary – سیکیورٹی کورسز کے لیے۔قانونی اور غیر قانونی ہیکنگ میں فرق✔️ قانونی ہیکنگ: کمپنی کی اجازت سے سسٹمز کو محفوظ بنانے کے لیے۔❌ غیر قانونی ہیکنگ: کسی کی اجازت کے بغیر ڈیٹا چوری یا نقصان پہنچانے کے لیے۔ہیکنگ کے لیے بہترین سرٹیفیکیشنز۔✔️ CEH (Certified Ethical Hacker)۔✔️ OSCP (Offensive Security Certified Professional)۔✔️ CompTIA Security+ہیکنگ سیکھنے کا آسان روڈ میپ1️⃣ مہینہ: نیٹورکنگ اور لینکس کی بنیادی معلومات حاصل کریں۔2️⃣ مہینہ: Python اور Bash سیکھیں۔3️⃣ مہینہ: ویب ہیکنگ سیکھیں اور OWASP Top 10 پر کام کریں۔4️⃣ مہینہ: Metasploit اور دیگر ہیکنگ ٹولز پر تجربہ کریں۔5️⃣ مہینہ: TryHackMe اور Hack The Box پر مشق کریں۔6️⃣ مہینہ: CEH یا OSCP سرٹیفیکیشن حاصل کریں۔✔️ اگر آپ ہیکنگ سیکھنا چاہتے ہیں، تو پہلے نیٹورکنگ اور لینکس پر عبور حاصل کریں۔✔️ پھر پروگرامنگ اور ویب سیکیورٹی سیکھیں۔✔️ ہمیشہ قانونی طریقہ اپنائیں اور Ethical Hacking کی طرف جائیں۔کیا آپ کو کسی مخصوص ہیکنگ تکنیک پر مزید تفصیل چاہیے؟

Monday, 10 March 2025

*صوبہ سندھ کے دارلحکومت کراچی* *گلستانِ جوہر، میں ایک ایسا ادارہ ہے جہاں آپ سے ایک روپیہ لئے بغیر آپکی آنکھ کا ہر ممکن علاج کیا جاتا ہے. مکمل ائرکنڈیشنڈ اور ہائی جینک ماحول، انتہائی جدید مشینوں سے آراستہ، جہاں بلا تفریقِ مذہب، ملت، ذات، تعلق، فرقہ اور قوم مفت علاج کیا جاتا ہے.**یہاں آپکی فوقیت آپکا ٹوکن نمبر ہے جو آپ خود بٹن دبا کر حاصل کرتے ہیں. کاؤنٹر پر لگا ڈیجیٹل ڈسپلے آپکے ٹوکن نمبر کی رہنمائی کرتا ہے.**اگر آپ علاج کی قیمت ادا کرسکتے ہیں تو فبہا، سامنے بکس رکھا ہے جتنی رقم ڈالنا چاہیں ڈال دیں.**جی یہ ادارہ*POB EYE HOSPITAL OF BLINDNESS* کے نام سے گلستان جوہر، بلاک 12 میں واقع ہے *یہ میسیج صدقہ جاریہ کی نیت سے اپنے حلقہ احباب میں شیئر کریں ممکن ہے آپکے شئر کرنے سے کسی ضرورتمند کی آنکھوں کی بینائ واپس آجائے…* 🇵🇰🌹کراچی کے چند ہسپتال جو مختلف امراض میں مبتلا مریضوں کو حتی الامکان مفت/ رعایتی علاج فراہم کرتے ہیں۔03004460660یہ پوسٹ مفاد عامہ کے لئے لگائی جارہی ہے۔ News flash01- *سیوٹ SUIT*گردوں کے تمام امراض کے علاج کے لئے ایک ورلڈ کلاس ہسپتال, مریض کے داخلے سے لے کر تمام ٹیسٹ, آپریشن, ڈائلاسس, دوائیاں, یہاں تک کہ مریض اگر چھوٹا بچہ ہے تو اس کے پیمپرز تک ہسپتال مہیا کرتا ہے۔ http://www.siut.org 03004460660News flash02- *انڈس ہسپتال*کورنگی میں انڈس ہسپتال 2007 سے خدمات انجام دے رہا ہے جملہ تمام جسمانی کا امراض کے لئے بالکل مفت علاج فراہم کیا جاتا ہے ۔https://en.m.wikipedia.org/wiki/Indus_Hospital 0300446066003- *بیت السکون*ہل پارک پر واقع کینسر ہسپتال, پہلے ٹیسٹ سے لے کر آپریشن اور پھر کیمو تھراپی, ریڈی ایشن اور پھر دوائیاں بھی بالکل مفت۔ کوئ انکوائری نہیں آپ کا اتنا بتادینا کافی ہے کہ آپ مستحق ہیں ۔ http://baitulsukoon.org 0300446066004- *کرن ہسپتال* کراچی یونیورسٹی سے آگے حکومت پاکستان کے اٹامک انرجی کمیشن کے زیر انتظام چلنے والے ملک بھر کے بارہ ہسپتالوں میں سے ایک۔ تشخیص, آپریشن, کیمو تھراپی, ریڈی ایشن اور دوائیاں کل ملا کر تین سے پانچ لاکھ روپے میں کینسر کا مکمل علاج۔News flash4- *جناح ہسپتال*جناح اسپتال میں ابھی حال ہی میں چند مخیر حضرات کے تعاون سے کینسر کا علاج جدید مشینوں پر کرنے کے لئے کام جاری ہے اور یہ علاج بھی مکمل فری آف کاسٹ بتایا جارہا ہے ۔News flash5 *نیشنل ہسپتال برائے نفسیات و منشیات*میں ذہنی امراض اور منشیات کا علاج مستند اور تجربہ کار ماہرین کی زیر نگرانی کی جاتی ہیں۔ ہسپتال میں 24 گھنٹے داخلے کی بھی سہولت ہے۔بیرونی علاج اور داخلے کی فیس کا تعین مریض کی مالی اسطاعت کے مطابق کی جاتی ہے۔۔برائے رابطہنیشنل ہسپتال برائے امراض نفسیات و منشیات نزد باب خیبر مین میٹروول سائٹ کراچی03-111-222-773 فون030044606606 آنکھون کا اسپتال LRBT کورنگی مفت آپریشن اور علآج کیا جاتا ہےhttps://www.youtube.com/@siasitaآپ جن گروپس میں شامل ہیں وہاں یہ معلومات شئر کردیں۔کیا پتہ کسی ضرورت مند کو علاج معالجہ کی ض حرورت ہو اور صرف اس کاپی پیسٹ سے اس کی ضرورت اللہ پوری کروا دے۔جزاکم اللہ خیرا..

Wednesday, 26 February 2025

🌹برصغیر میں عروج و زوال کی داستان🌹ہندوستان(برصغیر) ایک وسیع ملک تھا۔ اتنا بڑا کہ اسے چھوٹا براعظم کہا جاتا ۔ اس کا ساحل پانچ ہزارمیل تھا ۔ خشکی کی سر حد کو ئی چھ ہزار میل ہوں گی۔ شمال میں ہمالیہ پندرہ سو میل تک پھیلا ہوا تھا۔بند ھیاچل نے ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ہندوستان اپنی زرخیزی کی وجہ سے غیر قوموں کو اپنی طرف مائل کرتا رہا۔ صدیوں تک جنوبی قوموں کا تمدن شمالی ہندوستان کو متاثر کرتا رہا ۔ حملہ آور قوموں کی نسلیں آج بھی بندھیا چل کے اس پار شمالی ہندوستان کی نسبت بہت کم دکھائی دیتی ہیں۔ مختلف قوموں کے یہاں آنے سے ہندوستان میں مختلف تمدنوں کا ایک مجموعہ تیار ہو گیا۔ ہر تمدن ہندوستان کو متاثر کرنے کے بعد خودکسی دوسرے تمدن سے متاثر ہوتا رہا۔ نوحجری عہد میں ہندوستان میں دو قومیں بستی تھیں جس کی یاد گار آج تک نیل گری کی پہاڑیوں میں باقی ہے۔ اس کے بعد کول اور بھیل اقوام نے ہندوستان کو اپنا گھر بنایا۔ صدیوں بعددراوڑوں نے ان قوموں کو جنوب کی طرف دھکیل دیا۔ کول دراوڑ کے قد چھوٹے رنگ کالے پیلے اور ناک چپٹی تھی ۔دراوڑ ابتدا میں شمالی ہندوستان میں آباد ہوئے لیکن آریاؤں نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو دراوڑ کولوں اور بھیلوں سے کر چکے تھے۔ آریاؤں نے دراوڑوں کو شمالی ہندوستان سے نکال دیا۔ وہ جنوبی ہندوستان میں چلے گئے۔ آج جنوبی ہندوستان میں دراوڑوں کی اکثریت ہے ۔ان کی زبانیں ہندی آریائی زبانوں سے مختلف ہیں۔ شمالی ہندوستان میں دراوڑ شہری تمدن کے مدارج تک پہنچ چکے تھے۔ ان کا تمدن سومیری تمدن سے ملتا جلتا تھا۔ ہڑپہ اور موہنجو داڑو کی کھدائیوں نے ان کے تمدن کی عظمت کو ہمارے سامنے دکھا دیا ہے۔ ان شہروں کا تمدن صدیوں کی آغوش میں پلاہو گا۔ مصر ، عراق اور ایران کی تہذیبوں کے پہلو بہ پہلو دراوڑی تہذیب بھی اپنی قدامت اور عظمت کی داستان کھنڈرات کی شکل میں دکھائی دیتی ہے۔ موہنجوداڑواور ہڑپہ آریاؤں کے آنے سے صدیوں پہلے شہرت حاصل کر چکے تھے ۔ سندھ اور پنجاب کا تمدن مصر اور عراق کے ہم عصر تمدن سے کسی طرح پیچھے نہیں تھا۔ ان شہروں کے لوگ سوتی کپڑا بننا جانتے تھے۔ گھروں میں غسل خانے تھے۔ شہریوں کے مکان بہت بلند اور صاف ہوتے تھے۔ ان کا مذہب مصریوں اور سومیریوں سے ملتا جلتا تھا۔ آریا تقریبا 1500 قبل از مسیح یعنی حضرت عیس علیہ السلام سے 1500 سال پہلے شمالی ہند کی راہ سے ہندوستان میں داخل ہوے۔ سوم رس پینے والے جو ایک قسم کی شراب تھی جس کے پینے سے آنکھیں چمکدار ہو جاتی تھیں۔ آریا وسط اایشیا سے ہندوستان میں پیدل ننگے پاوں چل کر آئے ۔ گورا رنگ ساتواں ناک دراز قد جو وسط ایشیا سے ہندوستان کی زرخیزی دیکھ کر وارد ہوے۔ گھوڑے کا گوشت کھانے والے اور گھوڑی کا دودھ پینے والے آریا جفا کش دلیر اور بہادر تھے۔قدیم ہند( بر صغیر)کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ برصغیر کے قدیم باشندے چھوٹے قد کے اور سیاہی مائل رنگت کے تھے۔ وسطی ایشیا سے آریا اور راجپوت قبائل ان پر حملہ آور ہوئے اور ان کے مقابلے میں فتح سے ہمکنار ہوئے۔اس کے بعد انہوں نے تمام مقامی باشندوں کو مذہبی جبر و تشدد کے ذریعے اپنے مذہب کو اپنانے پر مجبو رکیا اور اس کے ساتھ ہی ذات پات کا نظام رائج کیا۔آریاؤں کی آمد کے ساتھ ساتھ یا ان سے پہلے شمالی مشرقی ہندوستان برما بنگال آسام کے درّوں سے منگولی قومیں بھی ہندوستان میں دا۔خل ہوتی رہیں۔ آریا شمال مغربی ہندوستان کی راہ سے داخل ہوئے۔ شمالی ہندوستان میں وہ صدیوں تک دراوڑوں سے لڑنے کے بعد پنجاب پر قابض ہوئے۔ پنجاب سے وہ گنگا کی وادی میں پہنچے۔ جہاں آریاؤں کی سیاست اور تہذیب اپنے عروج پر پہنچی۔ مگدھ میں ایک عظیم الشان آریہ سلطنت کی بنیاد پڑی۔ مگدھ کی سلطنت کے زمانہ میں گوتم بدھ کا ظہور ہوا۔ گوتم بدھ ہمالیائی ریاست کپل وستو میں پیدا ہوے ۔بدھ نے اپنے زمانہ کی تمام مجلسی برائیوں کے خلاف بغاوت کی۔ اس کا مذہب عوام کی زبان میں عوام کے لئے تھا۔ گوتم بدھ کی تعلیمات میں سے ایک بات میٹرک 1965 کی تاریخ میں لکھی ایک بات یاد ہے۔🌹دنیا دکھوں کا گھر ہے ۔ دکھ خواہشات سے پیدا ہوتے ہیں🌹ایران کے بادشاہ سارا نے سندھ اور پنجاب کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ سکندر نے بھی 336 قبل از مسیح میں ہندوستان کا رخ کیا۔ پورس نے اس کا مقابلہ کیا۔ سکندر دل چھوڑ کر یونانی فوجیں جہلم اور بیاس کے کناروں سے واپس ہوئیں۔ پاٹلی پترافتح کرنے کی ہوس لے کر سکندر کو واپس جانا پڑا۔ یونانی تہذیب نے شمالی ہندوستان کو متاثر کیا۔ سکندر کے جانے کے بعد پنجاب سے چند رگپت موریا اُٹھا۔ اس کے وزیر چانکیہ کی ’’ارتھ شاستر‘‘ نظم ونسق حکومت پر غالباً پہلی کتاب ہے۔ موریا خاندان کے شہنشاہ اشوک کا عہد حکومت رفاہ عامہ کے کاموں سے بھرا پڑا ہے۔ موریا سلطنت کی تباہی کے بعد پانچ سوسال تک ہندوستان میں کوئی مرکزی حکومت دکھائی نہیں دیتی۔ اس زمانہ میں ساکا او یوچی قوموں نے ہندوستان پردھاوا بولا۔ساکا قوم کا سب سے مشہور بادشاہ کنشک تھا۔ اسی زمانہ میں بدھ مت اور برہمن مت میں کشمکش ہوئی۔ پُران بھی اسی زمانہ کی یادگار ہے۔چوتھی صدی عیسوی میں گپت سلطنت قائم ہوئی۔ اب پاٹلی پترا کی جگہ اجین کو ہندوستان کی مرکزیت حاصل ہوئی۔ یہ زمانہ برہمن مت کے انتہائی عروج کا زمانہ ہے۔ بکر ما جیت اسی خاندان کا ایک حکمران تھا۔ گپت خاندان کے عہد حکومت میں ہندوستانی علوم وفنون اور صنعت وحرفت نے خوب ترقی کی ۔ ہندوستان اور روم میں تجارتی تعلقات قائم ہوئے۔ جنوبی ہندوستان کے لوگوں نے جاوا اور سماٹرا میں اپنی نوآبادیاں قائم کیں۔ گپت خاندان کے زوال کے بعد ہندوستان پھر بیرونی حملہ آوروں کا شکار ہوا۔ اب کےسفید ہن قوم نے شمالی ہندوستان کو تخت وتاراج کیا ٹیکسلا کو تبای برباد کیا آج بھی کھنڈرات موجود ہیں ۔ جاٹ اور گوجر اسی قوم کے مشہور قبائل تھے۔ مہر گل ہن قوم کا مشہور بادشاہ تھا۔ وہ ہاتھیوں کوپہاڑوں سے گرا کر ان کے مرنے کا تماشا کرتا اور خوش ہوتا۔ ساتویں صدی میں ہرش وردھن نے ہندوستان کو متحد کرنے کی کوشش کی۔ اس کے نظم ونسق کو ہیون سانگ ہم تک پہنچاتا ہے۔ ہرش وردھن اگر چہ بدھ مت کا پیرو کار تھا لیکن اس کے عہد میں شمالی ہندوستان میں برہمن مت نے زور پکڑ لیا تھا۔ لگ بھگ 600 عیسوی ہرش وردھن کی موت کے بعد ہندوستان کی مرکزیت ختم ہو گئی۔۔ اسلام اس وقت عرب کے صحراؤں میں پھل پھول رہا تھا۔ 712 عیسوی میں محمد بن قاسم دیبل کے راستے غالبا کراچی کی طرف سے سندھ میں داخل ہوا ۔ راجہ داہر کو شکست دی اور ملتان تک پہنچا ۔ لیکن کوئی اسلامی ریاست نہیں بنائی لیکن سندھ کے لوگوں پر کافی اثر چھوڑا۔ سندھ کے لوگوں نے محمد بن قاسم کی مورتیاں بنا لیں۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی اکثریت ان افراد پر مشتمل ہے جنہوں نے ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام کو اختیار کیا۔ اسکے بعد افغان اور غزنی سے محمود غزنوی نے ہندوستان پر سترہ حملے کئے۔ اسکے بعد محمد غوری نے لاہور کے راجہ جے پال اور پرتھوی راج کو شکست دے کر نئی سلطنت کی بنیاد ڈالی اور اپنے ایک غلام قطب الدین ایبک کو اس کا سربراہ بنایا۔ یہ پہلی اسلامی ریاست تھی جو خاندان غلاماں کے نام سے مشہور ہوئی ۔ التمش۔ رضیہ سلطانہ اور غیاث الدین بلبن ۔مشہور باد شاہ تھے۔ التمش اور رضیہ سلطانہ کو خلجیوں نے فتح کیا۔ علاؤالدین خلیجی مشہور بادشاہ تھا۔ خلجیوں کو خاندان تغلق نے فتح کیا جونا خان محمد بن تغلق اور فیروز شاہ تغلق مشہور بادشاہ تھے۔۔ جونا خان محمد بن تغلق کے زمانے میں مشہور سیاح ابن بطوطہ ہندوستان آیا۔ اور بہت معلومات اپنے سفر نامے میں لکھیں۔ فیروز تغلق اور غیاث الدین تغلو مشہور بادشاہ تھے محمود شاہ تغلق کمزور بادشاہ تھا۔ امیر تیمور کے حملے نے تغلق خاندان کے وقت کو خاک میں ملا دیا دہلی کو تیمور لنگ نے تہس نہس کیا۔ اور دہلی میں خون کی ندیاں بہادیں۔ کھوپڑیوں کے مینار بنائے۔ امیر تیمور نے کوئی مستقل حکومت نہیں بنائی لوٹ مار کر کے چلا گیا۔ اور خضر خان نے خاندان سادات کی بنیاد ڈالی۔ سید خاندان کی کمزوری دیکھ کر بہلول لودھی نے دلی پر قبضہ کیا اور لودھی خاندان کی بنیاد ڈالی۔ سکندر لودھی اس خاندان کا مشہور بادشاہ تھا۔ سکندر لودھی نے آگرہ شہر آباد کیا اور آگرہ کو دارلحکومت بنایا ۔ سکندر لودھی کے بعد ایک کمزور حکمران ابراہیم لودھی بادشاہ بنا۔ جس کو بابر نے پانی پت کے میدان میں شکست دے کر مغلیہ سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ بابر وسط ایشیا کی ریاست فرغانہ کے امیر عمر شیخ میرزا کا بیٹا تھا۔ والد کی وفات کے وقت بابر کی عمر بارہ سال تھی۔ بھائیوں اور چچا کی مخالفت کی وجہ سے فرغانہ کو چھوڑ کر در بدر پھرتا رہا۔ پتھریلے پہاڑوں پر ننگے پاوں چلتے ہوے اس کے پاوں اتنے سخت ہو گئے کہ کانٹا چبھتے کا احساس بھی نہیں ہوتا تھا۔ اس نے بارہ ہزار فوج اکٹھی کی اور کابل پر قبضہ کیا ۔ ہندوستان کی زرخیزی اور دولت دیکھ کر اس نے بارہ ہزار فوج سے ہندوستان پر حملہ کر دیا ۔1526 عیسوی میں پانی پت کے میدان میں ابراہیم لودھی کی ایک لاکھ فوج کو شکست دی اور مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی۔ رانا سانگا کو شکست دی اور اپنی سلطنت کو مظبوط کیا۔ بابر اتنا جفاکش تھا کہ دو آدمیوں کو اٹھا کر قلعے کی دیوار پر دوڑ لگاتا تھا۔ بابر بڑا مردم شناس تھا۔ ایک دفعہ بابر نے تمام حکومتی امرا؞ کو دعوت دی ۔ دعوت میں شیرشاہ سوری بھی امرا؞ میں شامل تھا ۔ شیرشاہ سوری نے بابر کے سامنے پڑا گوشت کا ٹکڑا اپنا خنجر نکال کر کاٹ کر کھانے لگا۔ دعوت ختم ہونے پر بابر نے اپنے ولی عہد ہمایوں کو تنبیہ کی کہ اس شخص شیرشاہ سوری سے بچ کر رہنا۔ پھر ہمایوں کو شیر شاہ سوری نے شکست دی۔ ہمایوں ایران بھاگ گیا۔ جب شیر شاہ کے جانشین کمزور ہوے تو ایرانی بادشاہ کی مدد سے دوبارہ سوری حکمران پر حملہ کیا اور اسکو شکست دے کر بادشاہ بنا۔ لیکن پانچ سال کے بعد فوت ہوا۔ ہمایوں کے بیٹے اکبر کی عمر بارہ سال تھی۔ اس کے استاد بیرم خان نے جلال الدین اکبر کے نام سے اکبر کو تخت پر بٹھایا اور خود اس کا سرپرست بن گیا۔اکبر نے پچاس سال حکومت کی دیں الہی کے نام سے ایک نیا دین جاری کیا۔ ہندو عورتوں سے شادی کی جہانگیر ایک ہندو عورت کے بطن سے پیدا ہوا۔ اکبر کے بعد جہانگیر تخت پر بیٹھا ۔ تزک جہانگیری میں زنجیر عدل کا ذکر ملتا ہے۔ اسکے بعد شاہ جہاں بادشاہ بنا ۔ شاہ جہاں کو عمارتیں بنانے کا شوق تھا اس کو انجینیر بادشاہ بھی کہتے ہیں ۔ تاج محل۔ شالیمار باغ اور ٹھٹھہ کی مسجد شاہ جہاں قابل ذکر ہیں۔ شاہ جہان بیمار ہوا تو اس نے بڑے بیٹے دارا شکوہ کو ولی عہد بنایا۔ اورنگزیب عالمگیر دکن میں مرہٹوں سے لڑ رہا ٹھا ۔ اس کو پتہ چلا تو تخت نشیمی کی جنگ چھڑی۔ جس میں اورنگ زیب فتح یاب ہوا۔ شاہجہاں کو قید کرکے بھائیوں کو شکست دی اور تخت پر بیٹھ گیا ۔ اس نے بھی پچاس سال حکومت کی ۔ لاہور کی بادشاہی مسجد اورنگزیب عالمگیر نے بنائی۔ اس کی وفات کے بیڈ جانشین کمزور ہوتے گئے تیمور اور مغل خون میں ملاوٹ کی وجہ سے سست ہو گئے۔ جس نی محمد شاہ رنگیلا جیسے بادشاہ پیدا کیے۔ نادر شاہ نے بھی دلی پر حملہ کیا خوب دولت لوٹی ۔ مشہور کوہ نور ہیرا اور تخت طاؤس بھی ساتھ لے گیا۔ ہنوستان جس کی دولت کے افسانے سکندر کے زمانے سے یورپ جا رہے تھے۔واسکوڈے گاما ایک عرب ملاح کی مدد سے راس امید جنوبی افریقہ کا چکر کاٹتا ہوا ہندوستان (برصغیر)کے ساحلی مقام کالی کٹ پر پہنچا۔ ہندوستان کے لوگوںنے اپنی روایتی مہمان نوازی کے پیش نظر اس نوو ار د کا استقبال کیا۔کالی کٹ کے راجہ زیمورن کو کیا خبر تھی کہ بدو کے افسانوی اُشتر کی طرح پرتگیز بھی اسے خیمہ سے باہر نکالنے کی فکر میں ہیں۔ پرتگیزوں نے کالی کٹ میں ایک فیکٹری قائم کی۔ تین سال بعد کالی کٹ کے سینہ پر ایک پرتگیزی قلعہ نظر آیا۔ تھوڑی مدت بعد پرتگیزی عَلم گواکی دیواروں پر لہرایا۔ کالی کٹ کے لزبنی مہمانوں نے زیمورن کے شاہی محلات کو نذر آتش کرنے سے گریز نہ کیا۔ میز بان کی خدمت میں مہمان کا ہدیہ تشکر! پرتگیزی آخر اس ملک کے ساحل پر پہنچ گئے۔1492 عیسوی میں کولنبس ہندوستان ڈھونڈتا ہوا امریکہ جا نکلا اور نیا بر اعظم امریکہ دریافت ہوا۔ اسٹریلیا بھی ایک جہاز ڈان جیمز کک نے دنیا کے گرد چکر پورا کرتے ہوے ڈھونڈ نکالا۔ انگریز بھی تجارت کی غرض سے ہندوستان آئے ۔ مغل بادشاہ جہانگیر کو کچھ تحفے تحائف دیے اور تجارت کی اجازت مانگی۔ اجازت ملنے کے کچھ عرصے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کلکتہ میں قائم کی ۔ اور بڑھتے بڑھتے اسی ایسٹ انڈیا کمپنی نے مغلیہ سلطنت کو کھوکھلی کرنا شروع کر دیا۔ بالآخر 1858 کی جنگ آزادی میں مغلیہ سلطنت کے آخری چشم و چراغ بہادر شاہ ظفر کو جلا وطن کر کے رنگوں بھیج دیا۔ اور وہاں ہی وہ فوت ہو گیا۔ اور انگریز پورے ہندوستان کے مالک بن گئے۔ 14اگست 1947 کو آزادی ملی۔ 🌹🌹تاریخ میں بہت سے حملہ آور آتے رہے اور کچھ لاتے رہے۔ اور کچھ لے کر جاتے رہے ۔ آج سے تین ہزار سال پہلے جو لوگ موجود تھے اب ان کی نسلوں میں بہت ملاوٹ ہو گئی ہے۔ جو بھی آیا اپنا نشان چھوڑ گیا۔ خالص کوئی نہیں ۔ اسی طرح راجپوت بھی خالص نہیں رہے ۔ سارے حملہ آور اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ مغل بھی خالص نہیں رہے۔ بابر چنگیز اور تیمور کا مکسچر تھا۔ اسکے بعد اکبر اعظم نے ہندووں سے شادی کی تو جہانگیر تو مکسچر تھا۔ آگے والے اسے بھی زیادہ مکسچر تھے۔ انگریزوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ اور اینگلو انڈین کے نام سے نئی قوم وجود میں آئی۔ آج کے بر صغیر میں دیکھیں تو شمال مغرب کے لوگ گورے چٹے اور ساتواں ناک والے ہیں۔ شائد ہی کوئی پٹھان کالے رنگ کا ہو جو کراس نسل ہے۔ جوں جوں آپ جنوب کی طرف جائیں تو لوگ سانولی رنگت کے نظر آئیں گے ۔ گورے چٹے بھی ہیں۔ اور جنوبی ہندوستان میں کالے اور چپٹی ناک والے زیادہ ںظر آئیں گے۔ شائد ہی کوئی گوڑا اور گندمی ہو ۔ جو کراس نسل سے ہو گا۔ بنگال میں زیادہ تر لوگ کالے چپٹی ناک والے ہونگے۔ لیکن کچھ خوبصورت اور گندمی رنگت والے بھی نظر آئیں گے۔ فلمسٹار شبنم اس کی ایک مثال ہے۔ کراچی میں بھی کچھ لوگ حبشی نسل کے گھنگریالے بالوں والے ملیں گے جن کو مکرانی کہتے ہیں۔ یوں بر صغیر میں تمام حملہ آوروں اور باہر سے آنے والوں نے اپنا اثر ڈالا۔ حملہ آور دورہ خیبر کے ذریعے آتے رہے۔ آریا آئے۔ سکندر آیا منگول آئے۔ افغان۔ لودھی سوری۔ مغل جس راستے سے گزرتے گئے اپنا بیج بوتے گئے۔ کون خالص ہے؟۔ جو آدمی جرمنی سے شادی کرے اور بچے پیدا کرے۔ کیا وہ خالص ہے ؟اگر کوئی ناروے یا انگلینڈ سے شادی کرے ۔ بچے پیدا کرے۔ کیا وہ خالص ہیں۔؟۔ نہیں مکس ہیں۔ بچے یہاں ایڈجسٹ نہیں ہو سکتے ۔ہم سب کراس ہو کر نئی نئی نسلیں نکل رہی ہیں۔ اصلی کوئی نہیںصدیاں گزر گئیں ۔ اسلام تو چودہ سو سال پہلے آیا تھا۔ لیکن 3000 سال پہلے آریا آئے اور سکندر بھی اسلام سے پہلے آیا بلکہ حضرت عیس علیہ السلام سے پہلے بھی کافی حملہ آور آئے۔ اس وقت نکاح کا کوئی concept نہیں تھا۔ سب رل مل گئے۔ گڈ مڈ ہو گیا۔ کیا خیال ہے۔ 😪 😪ہمارے آباؤ اجداد کوئی سعودی عرب سے نہیں آئیے تھے۔ اسلام تو آیا 610 عیسوی میں۔ اور ہمارے پاس دو تین سو سال بعد آیا اسے پہلے لوگ یا بدھ ازم یا ہندو ازم مانتے تھے۔ ابھی بھی ٹیکسلا ۔سوات۔ افغانستان میں مہاتما بدھ کی مورتیاں اور کھنڈرات موجود ہیں۔ ہم ہندوں سے مسلمان ہوے ہیں 🤔مغل بادشاہ تاج محل قلعے بنواتے۔ اور دال رو ٹی پکتی ۔ اسی روٹی پر گزارا ہوتا۔ فوج میں جو سپاہی لڑتے وہ بھی روٹی دال کی خاطر۔ تنخواہ کا کوئی concept نہیں تھا۔ اور نہ ہی اتوار کی چھٹی۔ یہ انگریز دور میں ملزمین کو ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہ ملتی تھی اور ہفتے میں ملازمین کو ایک اتوار کی چھٹی ہوتی۔ یہ سب میرے والد صاحب بتاتے تھے۔ کہ پہلے انگریزوں کے دور میں بھی کما کر کھاتے ہیں اور آزادی کے بعد بھی کما کر کھاتے ہیں ۔ اور بزرگوں سے بھی یہی سنا۔🌹🌹تحریر و تحقیق راجہ قدیر🌹

Thursday, 20 February 2025

ہم جنس پرستی(میڈیکل سائنس کی روشنی میں)تحریر: ڈاکٹر یونس خان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(نہایت حساس موضوع کی بنا پر میں نے کئی دن اس سوچ بچار میں گزارے کہ اس پر قلم اٹھانا چاہئے یا نہیں۔بالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنا اور وسیع تر انسانی مفادات پر قلم اٹھانا، ایک لکھاری کی اولین ذمہ داریوں میں سے ہے، خصوصاً میڈیکل شعبے سے وابستہ قلم کاروں کی)۔۔۔🔹🔹🔹۔۔۔۔اس مختصر تمہید کے بعد آئیے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ہم جنس پرستی (homosexuality) کی تعریف کے مطابق، یکساں جنس کے افراد کا ایک دوسرے کی طرف جنسی طور پہ مائل ہونا، ہم جنس پرستی کہلاتا ہے۔سماجی لحاظ سے اس کی چار اقسام ہیں۔1۔ گے Gayعموماً یہ اصطلاح مردوں کے باہمی جنسی رحجان کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ 2۔ لیسبیئن Lesbianیہ اصطلاح عورتوں کے باہمی جنسی رحجان کے لئے استعمال ہوتی ہے۔3۔ بائی سیکچوئیل Bisexualیہ اصطلاح ان افراد کے لئے استعمال ہوتی ہے جو جنسِ مخالف کے ساتھ ساتھ جنسِ موافق میں بھی جنسی رحجان رکھتے ہیں۔4۔ ٹرانس جینڈر Transgenderاپنے مفہوم کے لحاظ سے یہ ایک نفسیاتی اصطلاح ہے جس میں مرد یا عورت، اپنی پیدائشی جنس کی بجائے مخالف جنس جیسی حرکات و سکنات اور خوہشات رکھتے ہیں۔ مثلاً ٹرانس جینڈر مرد، خواتین جیسی عادتوں اور رحجانات کا حامل ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اینل سیکس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مندرجہ بالا میں لیسبیئن کو چھوڑ کر باقی تینوں میں جو رحجان بہت عام ہے وہ ہے اینل سیکس (anal sex) ۔ چنانچہ اپنے مضمون کے اس حصے میں ہم صرف اینل سیکس کے میڈیکل اثرات پر گفتگو کریں گے۔🔹اینل سیکس، "گے" مردوں میں تو عام ہے ہی مگر یہ مرد و خواتین کے تعلقات میں بھی ممکنہ طور پہ اپنا وجود رکھتا ہے۔🔹اینس (anus)، انسان کے ڈائجسٹو سسٹم کا آخری حصہ ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف انسانی غیر ہضم شدہ غذائی مادوں اور ایلیمینٹری کینال کے فضلہ جات کا اخراج ہے۔ تولیدی نظام یا نسل کی بڑھوتری میں اس کا قطعی کوئی عمل دخل نہیں۔ تاہم اس کے بیرونی حصے کی جانب حسی اعصاب (sensory nerves) کی کثیر تعداد کی وجہ سے یہ نہایت حساس حصہ ہے۔🔹اینس میں اگر مردانہ عضو تناسل کے دخول کے ذریعے جنسی عمل کیا جائے تو اس کے مندرج ذیل میڈیکل اثرات ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1۔ بافتوں (tissues) کا زخمی ہونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اینس میں کسی قسم کا لبریکیشن سسٹم نہیں ہوتا، نہ ہی ایسے گلینڈز ہوتے ہیں جو ویجائنا میں پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ اینل سیکس کے دوران اس کے حساس ٹشوز زخمی ہو جاتے ہیں اور ان چھوٹے چھوٹے دراڑ نما زخموں سے وائرس اور بیکٹیریا بآسانی دورانِ خون میں شامل ہو کر جسم میں پہنچ جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2۔ ایڈز کے امکانات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اینل سیکس میں ایڈز کے وائرس کے منتقل ہونے کے امکانات بہ نسب نارمل سیکس کے تیس گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ دنیا میں سب سے زیادہ اینل سیکس کرنے والے افراد میں ایڈز کا پھیلاؤ ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔3۔ ہیومین پیپیلوما وائرس کی منتقلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہیومین پیپیلوما وائرس (human papillomavirus) اس عمل میں بآسانی منتقل ہو کر warts اور کینسر کا باعث بنتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔4۔ پاخانے پر کنٹرول کی کمی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اینس کے ارد گرد مسلز کے بنے ہوئے اینل سفنکٹرز (anal sphincters) ہوتے ہیں جو سختی سے اینس کے سوراخ کو بند رکھتے ہیں۔ اینل سیکس کی کثرت سے یہ مسلز اپنی سختی کھو دیتے ہیں جس سے مریض کا اپنے پاخانے پر کنٹرول کم ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔5۔ یورینری ٹریکٹ انفیکشنUrinary Tract Infection۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اینس میں کئی اقسام کے بیکٹیریا بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں جن کا اینس کو تو کوئی نقصان نہیں ہوتا لیکن اگر یہ مردانہ عضو تناسل میں داخل ہو جائیں تو اسکے نظامِ اخراج اور گردوں میں انفیکشن کا باعث بن سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔6۔ دیگر انفیکشنز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اینل سیکس سے کئی دیگر انفیکشنز بہت آسانی سے منتقل ہو سکتے ہیں۔ مثلاً کلے مائڈیا، گونوریا، ہیپاٹائیٹس اور ہرپیز herpes وغیرہ۔ یہ سب انفیکشنز ایک سے بڑھ کر ایک خطرناک ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔7۔ بواسیر Haemorrhoid ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اینل سیکس بذاتِ خود تو بواسیر کا موجب نہیں بنتا لیکن اگر کسی کو پہلے سے بواسیر ہے تو یہ اس میں کئی گنا اضافہ کر دیتا ہے۔مندرجہ بالا اثرات کی بنا پر واضح طور پہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اینل سیکس غیر فطری بھی ہے اور شدید نقصان دہ بھی۔ اچھی صحتمند زندگی کے لئے اس سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔

Tuesday, 7 January 2025

انتہائی معذرت کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!🙏🙏🙏بچہ بازی ایک سنگین اور قبیح جرم اور ہماری بے حسیآج کل کچھ گھٹیا اور نیچ قسم کے لوگ چھوٹے بچے، یا خوبصورت نابالغوں کو اپنے ساتھ گھماتے ہیں اور ان پہ "خرچہ" کرتے ہیں ہر قسم کے، پھر اپنی اس گھٹیا اور نیچ حرکت پہ فخر بھی کرتے ہیں اور محفل وغیرہ میں بڑی شان سے اسے اپنے ہم خیال یعنی نیچ اور گھٹیا حرکت کرنے والوں سے ملاتے ہیں اور یہ سوچ کر چلتے ہیں کہ یہ کام آج کل عام ہوگیا ہے۔ اصل میں یہ کام زمانہ قدیم حضرت لوط علیہ سلام کے زمانے میں مشہور ہوگیا تھا جس پر اللہ تعالی نے پتھر کی بارش کی اور اس قوم کو نیست و نابود کیا جس کا قرآن کریم میں ذکر کیا گیا ہے۔یہ اتنا سخت عذاب تھا کہ آج بھی اس عذاب کے اثرات موجود ہیں لیکن آج کل کے دور میں جس طرح ہمارے معاشرے میں یہ گھٹیا اور قبیح فعل پھیل چکا ہے وہ انتہائی شرم اور افسوس کی بات ہیں۔ اج کل ہمارے بچے حمام میں بھی محفوظ نہیں، شایس کسی نے نوٹ نہ کیا ہو لیکن یہ ایک تلخ حقیقت یے، ناہی بچے کے بال بنانے کے بعد دوسروں سے کہتا سنا جاتا یے کہ "یاريں اتت او مالیں اتت " 😠اج ہمارے بچے گراونڈز میں بھی محفوظ نہیں، اس پاس کچھ نیچ اور بدذات لوگ حوس بھری نگاہوں سے تکھتے پائے جاتے ہیں۔ اج ہمارے بچے نہ بازار میں محفوظ ہے نہ تعلیمی اداروں میں نہ کھیل کے میدانوں میں آج کل جس کے ساتھ خوبصورت لڑکا ہوتا ہے وہ خود کو ایک بہت بڑا تیس مار خان سمجھتا یے اور اسکے ہم خیال نیچ دوست اس کی اس گھٹیا فعل کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، واہ واہ ہوتی ہے کہ "فلان فلان گو گردی " لعنت ہو ایسی سوچ پہ ایسے لوگوں پہاور اسی طرح پھر یہ خوبصورت لڑکا اپنے وقت کا بے تاج بادشاہ بن جاتا ہے جس کی ہر "مانگ" پوری کیجاتی ہے۔ نہ گاڑی کی کمی نہ 125 کی اور نہ ہی DSLR کی، جو بھی مانگے پورا کیا جاتا ہے تاکہ اس سے اپنی مطلب کا "کام" لیا جاسکے۔ جبکہ خوبصورت لڑکے کی ماں باپ بھی انتہائی خوش ہوتے ہیں کہ دیکھوں ہمارھ بچے کی کتنی "مانگ" ہیں۔لوگ اس کی کتنی قدر کرتے ہیں اور ساتھ ہی مالی مدد بھی ہوتا ہے۔ انہیں شاید یہ نہیں پتہ کہ اس مالی مدد کہ قیمت وہ کیسے چکا رہا یے۔👇لیکن وہ بے حس اور غیر ذمہ دار والدین اپنے بیٹے سے یہ بات تک نہیں پوچھتے کہ اتنی قیمتی چیزیں کہاں سے لاتے ہو؟ یہ قیمتی فون کس نے دیا اور کیوں دیا؟یہ جو نیا موٹرسائیکل لائے ہو یہ کس کا ہے اور تمہارے پاس کیا کررہا ہے؟؟؟یہ مہنگی چیزیں لاتے کہاں سے ہو اور کون اس قدر مہربان ہے تم پہ؟؟ ایسے والدین کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ میرے بیٹے کے ساتھ بند کمرے میں کیا کیا نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اتنی مہنگی چیزیں اسکی دسترس میں اتی ہے۔ 😠😠برائی یہاں نہیں رکتی جب وقت کے ساتھ ساتھ ایسے "بھشٹ" کی خوبصورتی ختم ہوجاتی ہے تو اس کا "صاحب اس کو بنا کسی بہانہ کئ چھوڑ دیتا ہے اور ان کو وہ سہولیات فراہم نہیں ہوتے جو پہلے ان کو ہوتے تھے۔ یا جن سہولیات کا ان کو عادی کیا جاتا تھا۔ تب یہ ایسی سہولیات کو ہر قیمت پہ پانے کے لیئے برائی کے رستے پہ چلنا شروع کردیتا یے اور پھر ہمیشہ کے لیئے ایک ذہنی مریض بن جاتا یے اور وہ ایک عام لڑکا ہونے کے باوجود ( ٹرانزجنڈر ) یا (ہیجڑہ) بن جاتا ہے۔ اگر ہم نے اس حساس اور خطرناک "وبا" کو سیریس نہیں لیا تو پھر ہماری آنے والی نسل مکمل تباہ و برباد ہوگی۔ آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ خوبصورت لڑکے کو زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے لیکن تا حال علاقائی سطح پر صرف اعلی حکام اور انتظامیہ سے رسمی کاروائی کا مطالبہ کے علاوہ کچھ نہ کرسکتے۔ علاقائی سطح پر اس طرف توجہ دینے کی اہم ضرورت ہے اگر کسی کے بچے کو اللہ نے حسن کی نعمت سے نوازا ہے تو اس پر نظر رکھنی چاہئیے۔ یہ والدین کی اولین زمہ داری ہے۔ بچے تو نادان ہوتے ہیں مگر والدین نہیں۔ والدین کو اپنے بچے اور بچیوں پہ ہرگز ہرگز اندھا بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ ان کویہ دیکھنا چاہیے کہ میرا بچہ کس قسم کے لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، رہن سہن کیا ہےم اسکے پاس مختلف قسم کی مہنگی اشیاء کہاں سے آتی ہیں اور کیوں آتی ہیں؟کون اسے یہ مہنگی چیزیں کیونکر دیتا یے؟؟ گھر سے اک رات 2 2 راتیں غائب کیوں رہتا یے؟ کہاں جاتا ہے رات کو دیر سے کیوں اتا یے۔ یہ سب👆 والدین کی اولین تر زمہ داریوں میں سے ہیں۔ خداراہ والدین اپنی زمہ داریوں کو سمجھے۔ اب اس حساس مسئلے میں پولیس یا میونسپل کیمٹی والوں سے ہم اپیل نہیں کرسکتے۔ اپنے بچوں کو بچایئے اور ان کی اچھی پرورش کیجئے تاکہ مستقبل میں ہمارے معاشرے میں کوئی انسانی درندہ پیدا نہ ہو۔ اور موجودہ انسانی درندوں کا خاتمہ تب ہوگا جب آپ اپنی بچوں کو سنجیدگی سے سنبھالنا شروع کرینگےبہنیں اپنی چھوٹے بھائیوں کی ضامن بنیں انہیں سمجھائے، بڑے بھائیوں کی بھی ذمہ داری بنتی یے۔ اگر ہم اس طرف توجہ نہیں دیں گے تو معاشرہ بگڑتا چلا جائے گا جس کے ذمہ دار ہم ہونگے۔ ایک بار پھر سے سخت اور نازیبا الفاظ کے استعمال کے لیے معذرت۔۔۔۔🙏یہ میسج ہر ایک تک پہنچنی چاہیے۔#شومست

Saturday, 14 December 2024

‏بواسیر مردوں میں زیادہ عام ہیں اور کچھ خطرے والے عوامل انہیں ٹھیک کرنا مشکل بنا سکتے ہیں۔ اس تھریڈ میں بواسیر کے علاج کا صحیح طریقہ اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے موجود ہے...‏1.بواسیرملاشی یامقعد(Anus or Rectum) میں سوجی ہوئی رگیں ہیں جو اکثر درد، خون بہنا اور تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔ یہ ویریکوز رگوں کی طرح ہے، لیکن ایسی جگہ پر کوئی بھی اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا ہے ۔‏🚨مردوں میں بواسیر زیادہ کیوں ہوتی ہے؟ مردوں کو بھاری لفٹنگ میں مشغول ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے، جس سے پیٹ کا دباؤ بڑھتا ہے۔ طرز زندگی کے عوامل جیسے طویل بیٹھنا، تمباکو نوشی، اور کم فائبر والی خوراک خطرے میں اضافہ کرتی ہے۔ ‏2.کچھ چیزیں اس کے علاج کو مشکل بناتی ہے؟ ✍️دائمی قبض: آنتوں کی حرکت کے دوران تناؤ اس جگہ کو پریشان کرتا رہتا ہے۔ ✍️خون کا خراب بہاؤ: سوجی ہوئی رگوں کو ٹھیک ہونے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ ✍️غلط عادات: ناقص خوراک، زیادہ دیر بیٹھنا اور ورزش کی کمی علامات کو مزید خراب کر دیتی ہے۔‏3. کیا بواسیر کا کوئی گھریلو علاج ہے؟ جی ہاں! اجزاء: - نیم کے تازہ یا خشک پتے (ایک مٹھی) - ہلدی پاؤڈر (1 چائے کا چمچ) - پانی (2 کپ)‏4. اس کو تیار کرنے کا طریقہ 1. نیم کے پتوں کو 2 کپ پانی میں 10 منٹ کے لیے ابالیں تاکہ ایک مرتکز ( concentrated)نیم چائے بنائیں۔ 2. مائع کو چھان لیں اور اسے ٹھنڈا ہونے دیں۔ 3. نیم چائے میں 1 چائے کا چمچ ہلدی پاؤڈر ڈالیں اور اچھی طرح مکس کریں۔‏5. اسے استعمال کرنے کا طریقہ: اسے پئیں: اس مکسچر کا 1 کپ روزانہ لیں تاکہ اندر سے سوزش کم ہو جائے۔ - اسے لگائیں: ایک صاف کپڑے یا روئی کی گیند کو مکسچر میں ڈبو کر متاثرہ جگہ پر لگائیں تاکہ آرام دہ ہو۔ 🚨یہ اپنے علاج کے دوران 1-2 ہفتوں تک روزانہ کریں اور جادو ہوتے دیکھیں۔ ‏6. بواسیر کے علاج اور روک تھام کے لیے طرز زندگی میں درج ذیل تبدیلیاں لازمی کریں ✍️زیادہ فائبر والی غذائیں جیسے پھل، سبزیاں اور سارا اناج کھائیں۔ ✍️پاخانہ کو نرم رکھنے کے لیے وافر مقدار میں پانی پئیں. ✍️زیادہ دیر تک بیٹھنے سے گریز کریں، خاص طور پر سخت جگہوں پر۔ ✍️آنتوں کی حرکت کے دوران تناؤ بند کریں۔ ✍️بھاری اٹھانے سے گریز کریں یا اگر آپ کو اٹھانا ضروری ہے تو مناسب تکنیک استعمال کریں۔ ✍️ خون کے بہاؤ اور ہاضمے کو بہتر بنانے کے لیے باقاعدگی سے ورزش کریں۔ ✍️ٹوائلٹ استعمال کرنے کی خواہش کو نظر انداز نہ کریں - فوری طور پر جائیں۔ لیکن یہ سب مردوں کے لیے نہیں ہے👇🧵